مرحلہ 1: ذاتی معلومات
اپنی قانونی معلومات اور پتہ درج کریں۔ اج کی تاریخ خود بخود درج ہو گئی ہے لیکن آپ تبدیل کر سکتے ہیں۔
مرحلہ 2: ابتدائی شرعی اقرار نامہ
یہ شق آپ کے عقیدے اور شریعت پر مرنے کے عزم کا اظہار کرتی ہے، جو کہ وصیت کے لیے ضروری ہے۔
مرحلہ 3: خاندانی معلومات
اپنے اہل خانہ کے نام درج کریں۔ یہ معلومات صرف معلومات اور گواہی کی غرض سے ہیں، وراثت کے حصوں کا حساب لگانے کے لیے نہیں۔
مرحلہ 4: اثاثہ جات کی تفصیل
اپنے اثاثوں کی تفصیل درج کریں یا مجموعی مالیت براہ راست لکھیں۔
مرحلہ 5: واجب الادا قرضے اور ذمہ داریاں
شریعت کے مطابق وراثت تقسیم کرنے سے پہلے تجہیز و تکفین کے اخراجات اور تمام قرضوں اور واجبات کی ادائیگی لازمی ہے۔
مرحلہ 6: وصیت برائے غیر ورثاء (زیادہ سے زیادہ 1/3)
آپ کل ترکے کا زیادہ سے زیادہ ایک تہائی (1/3) حصہ غیر ورثاء (جیسے یتیم خانہ، فلاحی ادارہ، دور کا رشتہ دار) کے نام وصیت کر سکتے ہیں۔
مرحلہ 7: وصی / وصیت نافذ کرنے والا
کسی قابل اعتماد اور امانت دار شخص کو اپنا وصی مقرر کریں جو آپ کے بعد دیون سستے کرنے، اور وصیت نافذ کرنے کا ذمہ دار ہو۔
مرحلہ 8: بچوں کا سرپرست / ولی (Guardian)
اگر آپ کی وفات کے وقت بچے نابالغ ہوں، تو ان کا کون سرپرست ہوگا جو ان کی اسلامی تربیت اور اثاثوں کا ذمہ دار ہو؟
مرحلہ 9: تجہیز و تکفین کی خواہشات
اپنی تدفین، قبرستان اور کفن و دفن کے مسنون طریقے سے متعلق ہدایات درج کریں۔
مرحلہ 10: اسلامی شقیں / نصیحتیں
ان شقوں کا انتخاب کریں جو آپ وصیت نامے کے اندر بطور اقرار شامل کرنا چاہتے ہیں۔ آخر میں ذاتی پیغام یا اہل خانہ کے لیے نصیحت بھی لکھ سکتے ہیں۔
مرحلہ 11: گواہان
وصیت نامہ قانونی اور شرعی طور پر مؤثر بنانے کے لیے دو عاقل و بالغ گواہان کا ہونا ضروری ہے۔ ان کے نام اور پتے درج کریں۔ پرنٹ کے بعد دستخط کی جگہ خود بخود بن جائے گی۔
گواہ اول
گواہ دوم
مرحلہ 12: جائزہ اور ڈاؤن لوڈ
آپ کا اسلامی وصیت نامہ کا مسودہ تیار ہے۔ پیش نظارہ میں معلومات کی تصدیق کریں اور پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں۔ دستخط اور گواہان کی جگہ مینوئل پرنٹ کے لیے خالی چھوڑی گئی ہے۔
اسلامی وصیت (وصیت نامہ) کی اہمیت
اسلام میں وصیت (Wasiyyah) لکھنا ایک انتہائی اہم اور مسنون عمل ہے۔ خاص طور پر غیر مسلم ممالک میں رہائش پذیر مسلمانوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے، کیونکہ وصیت نامہ نہ ہونے کی صورت میں جائیداد کی تقسیم وہاں کے مقامی سیکولر قوانین کے تحت کی جاتی ہے جو کہ شریعت سے مختلف ہو سکتی ہے۔
قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ
قرآن مجید میں وراثت اور وصیت پر گہرا زور دیا گیا ہے:
"تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آئے اور وہ مال چھوڑ رہا ہو، تو اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے اچھے طریقے سے وصیت کرے، یہ پرہیزگاروں پر حق ہے۔" (سورہ البقرہ: 180)
صحیح بخاری میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک تہائی سے زیادہ ترکے کی وصیت کرنے سے منع فرمایا:
"ایک تہائی (1/3) حصہ، اور ایک تہائی بھی بہت ہے۔ تم اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر جاؤ، یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔"
1/3 کا اصول اور وراثت
اسلامی قانونِ وراثت میں ترکے کی تقسیم دو حصوں میں ہوتی ہے:
- شرعی حصے (میراث): آپ کے ترکے کا کم از کم دو تہائی (2/3) حصہ لازمی طور پر آپ کے قریبی قانونی ورثاء (جیسے والدین، شریک حیات، اور اولاد) میں ان حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا جو سورہ النساء میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ آپ اپنی مرضی سے ان حصوں میں تبدیلی نہیں کر سکتے۔
- وصیت (Bequest): زیادہ سے زیادہ ایک تہائی (1/3) حصہ آپ کسی غیر وارث رشتہ دار، فلاحی ادارے یا صدقہ جاریہ کے لیے نامزد کر سکتے ہیں۔ شرعی وارث کے نام وصیت شریعت میں جائز نہیں، الا یہ کہ وفات کے بعد تمام ورثاء اس پر راضی ہوں۔