قانونی و شرعی انتباہ: یہ ٹول صرف تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ یہ کوئی قانونی یا شرعی ایڈوائزری فراہم نہیں کرتا۔ برائے مہربانی اس معاہدے پر دستخط کرنے سے قبل کسی مستند مفتی اور کاروباری وکیل سے مشورہ ضرور کر لیں۔
رازداری کی ضمانت: آپ کا درج کردہ ڈیٹا مکمل طور پر آپ کے اپنے براؤزر میں مقامی طور پر پروسیس ہوتا ہے اور کہیں بھی اپ لوڈ نہیں کیا جاتا۔

کاروباری شراکت داری کا معاہدہ

شریعت کے مطابق مشارکہ اور مضاربہ معاہدہ نامہ تیار کریں

مرحلہ 1 کا 10 پیشرفت

مرحلہ 1: شراکت داری کی قسم منتخب کریں

شریعت کے مطابق اپنے کاروبار کے لیے موزوں شراکت داری کا فریم ورک منتخب کریں۔

تجویز کردہ
🤝
مشارکہ (Musharakah)
سرمایہ اور محنت کی شراکت: تمام شراکت دار مالی سرمایہ (نقدی یا اثاثہ) لگاتے ہیں اور انتظام میں حصہ لیتے ہیں۔ منافع باہمی تناسب سے تقسیم ہوتا ہے لیکن نقصان لازمی طور پر سرمایہ کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔
💼
مضاربہ (Mudarabah)
سرمایہ بمقابلہ محنت: ایک فریق مکمل سرمایہ فراہم کرتا ہے (رب المال) اور دوسرا فریق صرف اپنی محنت، مہارت اور کاروباری انتظام دیتا ہے (مضارب)۔ نقصان صرف سرمایہ کار کا ہوتا ہے اور مضارب کی محنت ضائع ہوتی ہے۔

مرحلہ 2: کاروبار یا منصوبے کی تفصیلات

شراکت داری کے کاروبار کا نام، نوعیت، پتہ اور آغاز کی تاریخ درج کریں۔

مرحلہ 3: شراکت داروں کی معلومات

کاروبار میں شامل شراکت داروں کے نام، پتہ، شناختی کارڈ اور رابطہ نمبر درج کریں۔ (کم از کم 2 لازمی ہیں)

مرحلہ 4: سرمایہ کاری کی تفصیل

شراکت داروں کا نقدی یا غیر نقدی (اثاثہ جات) کی صورت میں سرمایہ درج کریں اور حصص کا حساب کریں۔

مرحلہ 5: منافع اور نقصان کی تقسیم

منافع میں حصے کی فیصد مقرر کریں۔ نقصان کی تقسیم کے شرعی اصول خود بخود نافذ اور لاک ہیں۔

خالی چھوڑنے پر شرعی طور پر تجویز کردہ متن خود بخود شامل ہو جائے گا۔

مرحلہ 6: انتظام اور فیصلے

انتظامی اختیارات اور کاروبار کے اہم فیصلے کرنے کا طریقہ کار مقرر کریں۔

مرحلہ 7: علیحدگی اور اخراج کی شرائط

شراکت دار کی علیحدگی، کاروبار بند ہونے کی صورت میں اثاثوں کی مالیت اور تقسیم کی شرائط درج کریں۔

مرحلہ 8: اسلامی اور شرعی شقیں

کاروبار کو سودی لین دین اور حرام چیزوں سے پاک رکھنے کی ضمانت کے لیے شرعی شقیں فعال کریں۔

مرحلہ 9: گواہان کی معلومات

دو گواہوں کی معلومات درج کریں۔ معاہدے پر قلمی دستخط کے لیے خالی جگہ پی ڈی ایف میں شامل کی جائے گی۔

مرحلہ 10: جائزہ اور فائل ڈاؤن لوڈ

آپ کا معاہدہ نامہ تیار ہے! بائیں کالم میں پیش نظارہ چیک کریں اور پی ڈی ایف یا ورڈ فائل ڈاؤن لوڈ کریں۔

معاہدہ نامہ کا پیش نظارہ A4 PDF شیٹ

پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ ہونے پر صفحات اور حاشیے A4 سائز کے مطابق بالکل درست آئیں گے۔

اسلامی کاروباری معاہدات کی شرعی گائیڈ

فقہ المعاملات شریعت کے مطابق
📖

باب 1: شراکت داری کی شرعی بنیادیں (شراکت کار)

اسلامی فقہ میں کاروباری شراکت داری کو شرکت (شراکت کار) کہا جاتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے کاروباری شراکت داری صرف ایک قانونی معاہدہ نہیں بلکہ باہمی امانت (Amanah) اور اخلاقی عہد ہے۔

شریعت کے اصولوں کے تحت حلال تجارت کو ایک انتہائی پسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے۔ شراکت داروں کے لیے لازمی ہے کہ وہ آپس میں صداقت، شفافیت، اور دیانتداری کا مظاہرہ کریں۔

"وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ"

"اور بے شک بہت سے شریک کار (شراکت دار) ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔" (سورہ ص: 24)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ کاروباری شراکت داروں کو ایک دوسرے کے ساتھ انصاف اور دیانت کا معاملہ کرنا چاہیے اور کسی قسم کی حق تلفی (بغیر کسی جواز کے زیادتی) سے بچنا چاہیے۔

نبی کریم ﷺ نے کاروباری امانت داری پر گہرا زور دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ جب تک شراکت داروں کے درمیان خیانت نہ ہو، اللہ کی تائید و نصرت ان کے ساتھ رہتی ہے۔

"إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَإِذَا خَانَهُ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا"

"اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 'میں دو شراکت داروں کا تیسرا (مددگار) ہوتا ہوں جب تک کہ ان میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی سے خیانت نہ کرے۔ پس جب وہ خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں۔'" (سنن ابی داؤد)
اس حدیثِ قدسی سے معلوم ہوتا ہے کہ کاروباری شراکت داری میں برکت اور اللہ کی تائید اس وقت تک رہتی ہے جب تک فریقین ایک دوسرے کے ساتھ سچائی اور خیر خواہی کا معاملہ رکھیں۔
🕌

باب 2: مشارکہ بمقابلہ مضاربہ ساخت

شریعت نے شراکت داری کے کاروبار کے لیے مختلف سانچے مہیا کیے ہیں، جن میں سے دو بنیادی درج ذیل ہیں:

  • مشارکہ (Musharakah): اس میں تمام فریقین مالی سرمایہ لگاتے ہیں اور کاروباری کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کا حق رکھتے ہیں۔ منافع کی تقسیم آپس کی رضامندی کے تناسب پر ہو سکتی ہے لیکن نقصان ہمیشہ سرمایہ کاری کے تناسب سے ہی تقسیم ہوگا۔
  • مضاربہ (Mudarabah): یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں ایک طرف سے صرف سرمایہ ہوتا ہے (جسے رب المال کہتے ہیں) اور دوسری طرف سے صرف محنت اور انتظام ہوتا ہے (جسے مضارب کہتے ہیں)۔ منافع باہمی تناسب سے تقسیم ہوتا ہے لیکن کاروباری نقصان صرف سرمایہ کار کا ہوتا ہے۔

مضاربہ میں نقصان کی صورت میں مینیجر (مضارب) کو کوئی مالی نقصان نہیں اٹھانا پڑتا کیونکہ اس نے سرمایہ نہیں لگایا ہوتا۔ اس کا نقصان اس کا ضائع ہونے والا وقت اور محنت ہے، بشرطیکہ نقصان اس کی دانستہ غفلت یا خیانت کی وجہ سے نہ ہوا ہو۔

⚖️

باب 3: منافع اور نقصان کی شرعی قیود

اسلامی مالیات کا سنہرا اصول ہے: "الْغُنْمُ بِالْغُرْمِ" (فائدہ نقصان کی ذمہ داری اٹھانے کے ساتھ وابستہ ہے)۔ کوئی بھی فریق کسی بھی خطرے (Risk) یا ذمہ داری کو قبول کیے بغیر منافع کا حقدار نہیں ہو سکتا۔

نقصان کی تقسیم کا حتمی شرعی قاعدہ

مشارکہ میں نقصان ہمیشہ سرمایہ کاری کے فیصد کے برابر تقسیم ہونا لازمی ہے۔ اگر ایک شریک کار نے 60 فیصد سرمایہ لگایا ہے تو وہ 60 فیصد ہی نقصان کا ذمہ دار ہوگا۔ اس تناسب کو تبدیل کرنا یا کسی ایک شراکت دار کو نقصان سے مکمل مستثنیٰ کرنا معاہدے کو باطل کر دیتا ہے۔

جبکہ منافع کی تقسیم کے لیے فریقین اپنی مرضی سے کوئی بھی شرح مقرر کر سکتے ہیں (جیسے 60 فیصد سرمایہ لگانے والے کے لیے 70 فیصد منافع کا حق) کیونکہ ایک شراکت دار زیادہ وقت یا مہارت دے رہا ہوتا ہے۔

مضاربہ میں مضارب کی ذمہ داری: مضارب نقصان کا ذمہ دار صرف ان حالات میں ہوگا:

  • تقصیر (غفلت): عام کاروباری ضابطوں سے دانستہ چشم پوشی کرنا۔
  • تعدی (زیادتی): معاہدے کی حدود یا رب المال کی طرف سے طے کردہ کاروباری دائرہ کار سے تجاوز کرنا۔
  • خیانت (دھوکہ دہی): فنڈز کا غلط استعمال کرنا یا ذاتی فائدے کے لیے دھوکہ دینا۔
🙋

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

س: کیا مشارکہ میں نقصان کی تقسیم کی شرح کو سرمائے کی شرح سے الگ رکھا جا سکتا ہے؟
ج: جی نہیں، نقصان کی تقسیم ہمیشہ سرمائے کے تناسب سے ہی ہونی چاہیے۔ یہ ایک حتمی شرعی اصول ہے۔

س: کیا شراکت دار اپنا سرمایہ جب چاہے کاروبار سے نکال سکتا ہے؟
ج: شریعت کے مطابق فریقین کو نوٹس کی مدت کا پابند ہونا چاہیے تاکہ کاروبار کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔

س: کیا کوئی شراکت دار دوسرے شراکت دار کے سرمائے کی واپسی کی ضمانت دے سکتا ہے؟
ج: کاروباری شراکت داری میں اصل سرمائے کی واپسی کی ضمانت دینا جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے نقصان کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے جو کہ سود کی ایک شکل بن جائے گا۔

س: اگر کاروبار میں کوئی منافع نہ ہو تو مضاربہ میں مضارب کو کیا ملے گا؟
ج: ایسی صورت میں رب المال کو کوئی منافع نہیں ملے گا اور مضارب کی محنت بلا معاوضہ جائے گی۔ فریقین دونوں نقصان کے ذمہ دار ہوں گے۔

س: کیا ہم اس فارم میں اپنی شقیں شامل کر سکتے ہیں؟
ج: جی ہاں، مرحلہ 8 میں آپ اسلامی شقوں کو ایڈٹ کر سکتے ہیں اور اپنی مرضی سے متن تبدیل کر سکتے ہیں۔

مآخذ و مراجع

  • [1] مفتی محمد تقی عثمانی، اسلامی بینکاری کی بنیادیں، باب: مشارکہ اور مضاربہ۔
  • [2] ایوفی (AAOIFI)، شرعی معیارات برائے اسلامی مالیاتی ادارے، معیار نمبر 12 (شرکت) اور معیار نمبر 13 (مضاربہ)۔
  • [3] ڈاکٹر وہبہ الزحیلی، الفقه الإسلامي وأدلته، جلد 5۔

یہ جنریٹر صرف معلوماتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ شراکت داروں کے لیے لازمی ہے کہ وہ پرنٹ کے بعد دو گواہوں کی موجودگی میں قلمی دستخط کریں۔

© 2026 AllRounder Tools. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔